پیر 10 اگست 2026 - 10:17
حوزہ نیوز اردو اور ہندی؛ علم و حقیقت کی مؤثر آواز: حجت الاسلام سید علی ہاشم عابدی

حوزہ/ہندوستان کے معروف عالم دین حجت الاسلام سید علی ہاشم عابدی نے حوزہ نیوز ایجنسی کی مختلف ویب سائٹس کی علمی، سیاسی، سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ نیوز اردو اور ہندی عصرِ حاضر میں حوزۂ علمیہ، علماء، دینی مراکز اور علمی و فکری سرگرمیوں کو اردو اور ہندی خواں دنیا تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ ہندوستان کے معروف عالم دین حجت الاسلام سید علی ہاشم عابدی نے حوزہ نیوز ایجنسی کی مختلف ویب سائٹس کی علمی، سیاسی، سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ نیوز اردو اور ہندی عصرِ حاضر میں حوزۂ علمیہ، علماء، دینی مراکز اور علمی و فکری سرگرمیوں کو اردو اور ہندی خواں دنیا تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوزہ نیوز ایجنسی محض خبر رسانی تک محدود نہیں، بلکہ علمی میراث کے تحفظ، دینی شعور کی بیداری، نوجوان نسل کی فکری رہنمائی اور حوزہ و عوام کے درمیان مؤثر علمی و ابلاغی رابطے کے قیام میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔

حجت الاسلام عابدی نے کہا کہ آج کے اطلاعاتی دور میں، جب خبروں کی فراوانی کے باوجود مستند اور قابلِ اعتماد معلومات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے، حوزہ نیوز اردو اور ہندی حوزۂ علمیہ اور برصغیر کے اردو و ہندی خواں طبقے کے درمیان ایک مؤثر علمی و ابلاغی پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ نجف اشرف، قم المقدسہ، کربلائے معلیٰ اور دیگر علمی مراکز میں جاری علمی، دینی اور تحقیقی سرگرمیوں کو قارئین تک پہنچانا، مراجعِ کرام، آیاتِ عظام، علماء اور محققین کی علمی و اجتماعی خدمات کو اجاگر کرنا، مذہبی مناسبتوں کے فکری و تاریخی پہلوؤں کو نمایاں کرنا اور معاصر مسائل کو دینی و علمی تناظر میں پیش کرنا اس کی اہم خدمات میں شامل ہے۔

مولانا سید علی ہاشم عابدی نے کہا کہ حوزہ نیوز ایجنسی نہ صرف حوزوی سرگرمیوں کی ترجمانی کر رہی ہے، بلکہ علم، فکر، دینی بصیرت اور علمی میراث کو نئی نسل تک منتقل کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ آج شائع ہونے والی کوئی مستند خبر، عالم کی گفتگو، علمی نشست کی رپورٹ یا حوزوی سرگرمی کی دستاویز مستقبل کے محققین کے لئے تاریخی ماخذ بن سکتی ہے؛ اس اعتبار سے حوزہ نیوز ایجنسی عصرِ حاضر کی حوزوی و دینی تاریخ کے تحفظ میں بھی ایک اہم خدمت انجام دے رہی ہے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ موجودہ ڈیجیٹل ماحول میں غیر مصدقہ اطلاعات، افواہیں اور یک طرفہ بیانیے لمحوں میں عام ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں تحقیق، تصدیق، توازن اور علمی دیانت کے ساتھ خبر پیش کرنا صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے، کہا کہ حوزہ نیوز اردو اور ہندی اسی اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنے قارئین تک قابلِ اعتماد، بامقصد اور قابلِ فہم معلومات پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔

حجت الاسلام سید علی ہاشم عابدی نے حالیہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کی جنگ میں حوزہ نیوز ایجنسی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خصوصاً حالیہ ایران۔امریکہ جنگ کے دوران حوزہ نیوز کی اردو اور ہندی صحافتی خدمات نمایاں رہیں۔ جنگ کے میدان کے ساتھ اطلاعات اور بیانیے کے محاذ پر بھی شدید کشمکش جاری تھی۔ ایسے ماحول میں حوزہ نیوز نے بدلتی ہوئی صورتِ حال اور جنگی پیش رفت کے مختلف پہلوؤں کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کیا اور یک طرفہ پروپیگنڈے و گمراہ کن اطلاعات کے مقابلے میں مختلف زاویوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر اس کی بے باک اور ذمہ دار صحافت نے یہ واضح کیا کہ قلم بھی ایک مؤثر محاذ ہے اور حقائق کی ترجمانی بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی؛ میڈیا، سوشل میڈیا، اطلاعات اور بیانیہ بھی اس کے اہم محاذ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں حقائق کی درست ترجمانی، مختلف پہلوؤں کی نشاندہی اور عوام کو باخبر و باشعور رکھنا محض صحافتی ضرورت نہیں، بلکہ ایک اہم فکری ذمہ داری بھی ہے۔ حوزہ نیوز نے اس میدان میں اپنی بساط کے مطابق مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔

مولانا نے مزید کہا کہ ان تمام خدمات کے پسِ پشت حوزہ نیوز کے ذمہ داران، مدیران، صحافیوں، مترجمین اور کارکنان کی شب و روز محنتیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔ بالخصوص اردو و ہندی شعبہ کے ذمہ داران، جن میں مولانا سید محمود حسن رضوی اور دیگر برادران قابلِ ذکر ہیں، خبر کی تلاش، تحقیق، ترجمہ، تدوین اور بروقت اشاعت جیسے مسلسل مراحل میں اخلاص و لگن کے ساتھ مصروفِ خدمت رہتے ہیں۔ ان کی شب و روز محنت اور بے لوث زحمتیں یقیناً قابلِ قدر ہیں، جن کے نتیجے میں حوزہ نیوز اردو و ہندی قارئین تک حوزوی فکر، دینی آگہی اور معاصر حالات کی مؤثر ترجمانی کا ایک فعال ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

لکھنؤ کے معروف عالم دین نے اس بات پر زور دیا کہ بلاشبہ، حوزہ نیوز اردو اور ہندی محض ایک نیوز پلیٹ فارم نہیں، بلکہ حوزوی فکر، دینی آگہی، علمی میراث اور ذمہ دار صحافت کی ایک مؤثر ترجمان آواز ہے۔ اس کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ خبر کو شعور، شعور کو فکر، فکر کو بصیرت اور بصیرت کو مثبت عمل سے جوڑنے کا یہ سفر مزید استقامت کے ساتھ جاری رہے۔

آخر میں انہوں نے دعا کروائی کہ اللہ تعالیٰ حوزہ نیوز کے تمام ذمہ داران، مدیران، صحافیوں، مترجمین اور کارکنان کی مخلصانہ کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے قلم کو مزید قوت و تاثیر بخشے اور انہیں علم و دین کی اس اہم خدمت کو اخلاص، استقامت اور کامیابی کے ساتھ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha